فلسطین کے تاریخی شہرمقبوضہ بیت المقدس میں ہفتے کے روز انتہا پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے سلوان کے مقام پرایک جامع مسجد کے امام اور خطیب کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور مسجد کو آگ لگانے کی
کوشش کی تاہم مقامی فلسطینی شہریوں کی مداخلت سے صہیونیوں کی یہ شر انگیز حرکت ناکام بنادی گئی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ہفتے کے روز عین سلوان کےمقام پر جامع مسجد کے امام آدم سمرین ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد مسجد سے باہر نکلے۔ اس وقت تک بیشتر نمازی واپس گھروں کو جا چکے تھے۔ یہودیوں کے ایک گروپ نے امام مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے لگے۔ اس موقع پر فلسطینی امام مسجد نے خود کو یہودیوں کے چنگل سے نکالنے کی کوشش کی تو انتہا پسندوں نے گھونسوں اور ڈنڈوں سے 70 سالہ امام مسجد پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ یہودی آباد کاروں کے حملے کے دوران نمازی اور اہل محلہ کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہوگئی۔ انہوں نے معمر امام مسجد کو یہودی درندوں سے نجات دلائی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کا گروپ اپنے ساتھ پٹرول اور آتش گیر مادہ ساتھ لایا تھا، انہوں نے مسجد کو شہید کرنے اور اسے آگ لگانے کی بھی کوشش کی تاہم فلسطینیوں نے یہودیوں کو اس طرح کی کسی بھی اوچھی حرکت سے روک دیا۔ ادھر مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے اطلاعات ہیں کہ یہودی آباد کاروں کے ایک گروپ نے ایک دس سالہ فلسطینی لڑکا یرغمال بنا کر اسرائیلی پولیس کے حوالے کر دیا۔ صہیونی پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکے نے یہودی آباد کاروں کی گاڑیوں اور ان کے پیدل قافلوں پر پتھراؤ کیاہے جس کے الزام میں اسے حراست میں لیا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

