مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق آوی گیڈور لائبرمین کا یہ بیان اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بڑے پیمانے پر اچھالا ہے۔ عبرانی ریڈیو کے مطابق لائبر مین نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت میں صرف اس شرط پرشامل ہوسکتا ہوں کہ وہ پہلے مشرقی بیت المقدس میں "معالیہ ادومیم” کالونی میں ایک ہزار مکانات کی تعمیر کا اعلان کریں”۔
خیال رہے کہ نیتن یاھو اور ان کےسابق حلیف لائبرمین کے درمیان بعض معاملات اختلافات سامنے آئے تھے جس کے بعد لائبرمین نے پچھلے ماہ بننے والی یاھو کابینہ میں شمولیت سے انکار کردیا تھا۔لائبرمین مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے حامی ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کو کچلنے کے لیے ایک بار پھر بھرپور طاقت کا استعمال کیا جائے۔
لائبرمین کا کہنا تھا کہ یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر سے متعلق شرط نئی نہیں بلکہ ماضی میں بھی میں اس پراصرار کرچکا ہوں۔ میرا مطالبہ ہے کہ نیتن یاھو مشرقی بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے ایک ہزار نئے مکانات کی تعمیر کا اعلان کریں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین سمیت عالمی برادری فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی متنازعہ یہودی آباد کاری کی مخالفت کرچکے ہے مگر اس کے باوجود اسرائیلی حکومت پوری ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودی آباد کاری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
