فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ رائد صلاح نے اسرائیلی جج کے سامنے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں نے ایک سے دوسری جیل لاتے ہوئے میرے ہاتھوں کو زنجیروں سے باندھا، اس کے بعد پاؤں کو بھی زنجیروں میں جکڑا، بعد ازاں ہاتھوں اور پاؤں کی زنجیروں کو آپس میں باندھ دیا گیا۔ اس طرح انہیں پابہ جولاں لایا گیا ہے۔ جیل سے عدالت آنے کے دوران ہاتھوں اور پاؤں کو باندھے جانے کے باعث شدت تکلیف سے وہ ایسے محسوس کررہے تھے گویا ان کے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ الشیخ رائد صلاح کو اسرائیلی فوج نے 15 اگست 2017ء کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر اسرائیلی ریاست کے خلاف تشدد کو ہوا دینے اورفلسطینی مزاحمت کاروں کی حمایت سمیت کئی دوسرے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
الشیخ رائد صلاح اپنی ایک سابقہ پیشی کے موقع پر اپنے ساتھ برتے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پہلے بھی احتجاج کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عقوبت خانے میں انہیں ٹوائلٹ نما کوٹھڑی میں بند کیا گیا ہے جہاں وہ رفح حاجت کرنے، نماز ادا کرنے، قرآن کی تلاوت کرنے اور لیٹنے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج مجھے مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے بات کرنے کی پاداش میں غیرانسانی سلوک کا نشانہ بنا رہی ہے۔ الشیخ رائد صلاح کے وکیل کا کہناہے کہ صہیونی تفتیش کار الشیخ رائد صلاح کو دوران حراست ہولناک تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
