القدس ریلی جب یاد گار شہدا اسکردو پر پہنچی تو ایک عظیم الشان جلسے کی صورت اختیار کر گئی جس سے آئی ایس او کے صدر شفقت غازی، ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ آغا علی رضوی، جے ایس او کے سربراہ یاسین عابدی کے علاوہ علامہ مرزا یوسف حسین اور شیخ جواد حافظی نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور فلسطین میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کے شرمناک رویے پر دکھ کا اظہار کیا اور اقوام متحد کا فلسطین کے حوالے سے جانبدارانہ رویے کی شدید مذمت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ستر سال گزرنے کے باوجود عالمی برادری اور اقوام متحدہ کا فلسطین کے حوالے سے رویہ شرمناک ہے مزید ان اداروں سے امید لگائے بیٹھنا نادانی کے سوا کچھ نہیں۔ اب مسلمانان عالم کو اپنے مشترکہ دشمنوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے اور فلسطین کے مسلمانوں کی آزادی اور قبلہ اول کی بازیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب مسلمانان راست اقدام اٹھاتے ہوئے مجرمین قدس کا گھیرا تنگ کرے اور وسیع پیمانے پر جدوجہد کا آغاز کرے۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان سمیت پورے مسلمان ممالک میں امریکہ کی موجودگی اسرائیلی ایجنڈوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور اپنے عزائم کی تکمیل کیساتھ ساتھ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے۔ تمام مسلمان ممالک میں اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں میں امریکہ و اسرائیل کا ہاتھ موجود ہے یہ دونو ں طاقتیں اسلام اور پاکستان کا مخلص نہیں ہو سکتا اور انکے ساتھ جب تک عالم اسلام کا دوستانہ مراسم ہے کبھی ملک میں امن و امان نہیں آسکتا۔ مقررین نے پاکستان کے حساس ترین خطہ گلگت بلتستان میں امریکہ کی تنظیموں کی موجود گی کو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ کا باعث قرار دیا اور اسے ایک اور فلسطین کے وجود میں لانے کی ساز ش قرار دی۔ جلسے کے اختیام پر امریکہ و اسرائیل کے پرچم کو مردہ باد امریکہ اور مردہ باد اسرائیل کے نعروں کے ساتھ نذر آتش کر دیا گیا۔
