مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ آج جمعہ کو عالمی سلامتی کونسل فلسطین کے علاقے غزہ کیÂ پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاں جنگی قیدی بنائے گئے فلسطینیوں کے معاملے پرغور کرے گی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ’ڈنی ڈانون‘عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس پر دباؤ ڈالنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے، تاکہ یرغمالی صیہونی فوجیوں کی رہائی عمل میں لائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے اپنے فوجیوں اور دیگر شہریوں کی واپسی کے لیے ہرسطح پر کوششیں جاری رکھیں گے۔
ادھر عبرانی نیوز ویب پورٹل ’0404‘ کے مطابق غزہ کی پٹی میں یرغمال فوجی ہدارگولڈین کے والدین لیا اور سیما گولڈین گذشتہ روز نیویارک روانہ ہوگئے ہیں جو سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
غزہ میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجیوں کے اہل خانہ نے وزیراعظم نیتن یاھو پر الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم نے انہیں شرمندہ کیا ہے۔ حکومت ان کے بیٹوں کو فلسطینی مزاحمت کاروں کی قید سے آزادی دلانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
خیال رہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے 2014ء کی جنگ میں چار اسرائیلی فوجیوں کو جنگی قیدی بنا لیا تھا۔
