رپورٹ کے مطابق محمد القیق کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ القیق اس وقت کسی وکیل کے بغیر اسرائیلی فوجی اسپتال میں قید ہیں، کیونکہ صہیونی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں کلب برائے اسیران نے محمد القیق کی وکالت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے،
القیق کے اہل خانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیاہے کہ تین ماہ سے مسلسل بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد القیق کا اب صرف اللہ ہی حامی و ناصر ہوکیونکہ ان کی وکالت کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ فلسطینی تنظیم کلب برائے اسیران نے اسرائیلی ہٹ دھرمی کے بعد القیق کی وکالت سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔
ادھر فلسطینی محکمہ امور اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع نے بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی محمد القیق کے اہل خانہ سے ٹیلیفون پر بات چیت میں القیق کی بھوک ہڑتال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے فلسطینی اداروں کی تجاویز پرکوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صہیونی انتظامیہ القیق کی زندگی کو دانستہ طورپر خطرے میں ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ عیسیٰ القراقع نے کلب برائے اسیران کی جانب سے القیق کا مقدمہ لڑنے سے انکار پربھی افسوس کا اظہارکیا اورصہیونی فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کلب برائے اسیران کا فیصلہ صہیونی ہٹ دھرمی کے خلاف احتجاج ہے۔
ادھر فلسطینی محکمہ اسیران کی خاتون مندوب حنان الخطیب نے کہا ہے کہ القیق کی حالت مزید تشویشناک ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محمد القیق زیادہ تر بے ہوش ہیں اور انہیں دل کے دورے بھی پڑنے لگے ہیں۔
