جنین – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی انتظامیہ کی طرف سے غرب اردن کے شہروں اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے درمیان آمد ورفت پر عائد کردہ پابندیوں کے خلاف مقامی فلسطینی تاجر برادری آج وسیع پیمانے پر ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کررہی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں الجملہ تجارتی راہ داری پر اسرائیلی فوج کی طرف سے عائد کردہ سفری قدغنوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ فلسطینی کاروباری تنظیموں اور تاجر برادری نے کاروباری سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اتوار کو علی الصباح الجلمہ گذرگاہ پر سیکڑوں فلسطینی دکانداروں نے جمع ہوکر احتجاج کیا۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ صہیونی انتظامیہ الجلمہ گذرگاہ پر کاروباری حضرات کی شرمناک تلاشی اور ان کے ساتھ اشتعال انگیز رویہ ختم کرے اور کاروباری شخصیات کو اندرون فلسطین اپنے کاروباری مقاصد کے لیے سفر کی کھلی اجازت فراہم کرے۔
ایک مقامی تاجر محمد الکیلانی نے بتایا کہ صہیونی انتظامیہ دانستہ طور پرفلسطینی تاجروں اور کاروباری برادری کے لیے مشکلات کھڑی کررہی ہے۔ نام نہاد دعوؤں کی آڑ میں تاجروں کی سفری پرمٹ منسوخ کیے جا رہے ہیں۔ گذرگاہ پر توہین آمیز انداز میں ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور کئی کئی روز انہیں گذرگاہ پر پھنسائے رکھا جاتا ہے۔
