فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکومت نے ڈیڑھ سال قبل وزراء اور ارکان پارلیمان کے قبلہ اوّل میں داخلے پر عائد کردہ پابندی ختم کردی ہے۔ اب کسی بھی وزیر یا رکن کنیسٹ کو فول پروف سیکیورٹی میں حرم قدسی میں جانے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت ہو گی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے پولیس کی سفارش پر ڈیڑھ سال قبل وزراء، ارکان پارلیمان اور دیگر وی آئی پی شخصیات کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ وزراء اور ارکان پارلیمان کی آمد سے فلسطینیوں میں اشتعال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ارکان کنیسٹ اور وزراء آئندہ ہفتے سے قبلہ اول میں داخلے کے مجاز ہوں گے۔ خیال رہے کہ رواں سال فروری میں اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی اخلاقیات کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ پر مسجد اقصیٰ میں داخلے پر عائد کردہ پابندی کالعدم قرار دی تھی۔
