(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے سیکڑوں مکانات کی مسماری کے جلو میں یہ انکشاف ہواہے کہ صہیونی فوج غرب اردن کے سیکٹر ’’ C ‘‘ میں مزید ایک ہزار مکانات بلڈوز کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ غرب اردن کے سیکٹر ’سی‘ میں یورپی یونین کی معاونت سے بنائے گئے ایک ہزار مکانات کو اسرائیل نے غیرقانونی قرار دیا ہے اوران کی مسماری کی مہم جاری ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے یورپی یونین کی معاونت سے تعمیر کردہ مکانات کی مسماری کی مہم اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] کے دو سینیر ارکان ’’بتسئل یوال سموٹیرچ‘‘ اور ایک دوسرے رکن کر رہے ہیں۔ انہوں نے غرب اردن کے سیکٹر سی میں فلسطینیوں کے تعمیر کردہ گھروں بالخصوص یورپی یونین کی مالی مدد کے تحت بنائے گئے مکانات کو غیرقانونی قرار دیا ہے اور وزیراعظم نیتن یاھو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد ان تمام مکانات کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کریں۔
خیال رہے کہ یہ مکانات مسمار کرنے کے مطالبات ایک ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب صہیونی فوج پہلے غرب اردن کے سیکٹر سی میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کا ظالمانہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
