مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سنہ 1948 ء کے دوران اسرائیل کے قبضے میں چلے جانے والے اس گاوں کی مسماری کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ صہیونی فوج درجنوں بار اس بستی کو صحفہ ہستی سے مٹا چکی ہے۔
فلسطینی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ بدھ کو یہودی فوجیوں کی فول پروف سیکیورٹی میں بلڈوزروں نے العراقیب میں اس وقت چڑھائی کی جب گھروں میں موجود مرد حضرات کام کاج کی خاطر گاوں سے باہر جا چکے تھے اور گھروں میں صرف خواتین اور بچے رہ گئے تھے۔ صہیونی فوجیوں نے قصبے کی مکمل ناکہ بندی کرنے کے بعد کچے گھروں، خیموں اور شیلٹروں میں رہنے والے فلسطینیوں کو گھیسٹ کر باہر نکالا اور مکانات کی مسماری شروع کردی۔
سخت سردی کے باوجود فلسطینی آبادی کو ایک مقامی قبرستان میں کھلے آسمان تلے پناہ لینا پڑی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے جزیرہ نما النقب کی ایک لاکھ 20 ہزار نفوس پر مشتمل فلسطینی بدوں کی آبادی کو وہاں سے نکال باہر کرنے کی سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔ انہیں سازشوں میں العراقیب گاوں کی بار بار مسماری بھی شامل ہے۔ تاکہ تنگ آ کر فلسطینی خود ہی علاقہ چھوڑ دیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
