مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی کسی عدالت کی جانب سے یہ پہلا موقع ہے کہ جب یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی املاک پر قبضے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فلسطینیوں کی ملکیت ک حق تسلیم کیا گیا ہے۔
مالک مکان سمیر رویضی نے بتایا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ میں یہودی آباد کاروں نے ایک سابقہ عدالتی فیصلے پرنظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ رویضی خاندان کی ملکیت میں موجود مکان ماضی میں یہودی آباد کاروں کی ملکیت میں رہا ہے اور انہوں نے اسے خرید رکھا ہے تاہم وہ عدالت میں اپنے دعوے کے ثبوت پیش نہیں کرسکے ہیں۔
یہودی آباد کاروں کی جانب سے دائر درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلوان میں رویضی خاندان کے ملکیت میں چھ فلیٹس پر مشتمل 350 مربع میٹر پرپھیلے مکان کو املاک متروکہ میں شامل کیا گیا تھا۔ رویضی خاندان نے اس پر غیرقانونی طورپرقبضہ کر رکھا ہے۔ تاہم رویضی خاندان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پچھلے 50 سالوں سے اسی مکان میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے آج تک یہ مکان کسی کو کرائے پردیا اور نہ ہی فروخت کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس جگہ ان کے آبائو اجداد سنہ 1818 ء سے رہ رہے ہیں۔ پچھلے اڑھائی سو سال سے اس یہ جگہ کبھی خالی نہیں رہی ہے۔ اس لیے اسے املاک متروکہ میں کیسے شامل کیا جاسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
