فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں اسرائیلی فوج کی ایک خاتون اہلکار نے ایک کم سن فلسطینی طالبہ پر ہولناک تشدد کرتے ہوئے اسے قتل کی دھمکیاں دیں۔
وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والی بچی کواسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔
فلسطینی طالبہ اسیل جابر کے اہل خانہ نے بتایا کہ اسیل علی الصبا اسکول جا رہی تھی کہ راستے میں گشت میں مصروف یہودی خاتون فوجی اہلکار نے اسے روک لیا۔ بچی کی جامہ تلاشی لینے کے بعد اسے ایک چیک پوسٹ پر لے جایا گیا جہاں اسے کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے دوران وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بچی نے اپنی معصومیت کے باوجود بلا وجہ تشدد کی وجہ پوچھی تو غنڈہ گرد صہیونی فوجی نے اسے قتل کی دھمکیاں دیں اور مزید تشدد کیا جس کے بعد اسے زخمی حالت میں سڑک کنارے پھینک دیا گیا۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس وقت پتہ چلا جب سیل کے اسکول میں پڑھنے والے دوسرے بچے واپس گھروں کو پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے اسیل الجابرکو حراست میں لے لیا تھا اور جب وہ واپس آئے تو وہ سڑک کے کنارے زخموں سے کراہ رہی تھی۔
یہ خبر سن کربچی کے والدین اور دوسرے شہری جامع مسجد الخلیل کے قریب اسکول کی طرف دوڑے اور راستے میں پڑی بچی کو اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔
ادھر الخلیل میں ڈائریکٹر ایجوکیشن نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی غنڈہ گردی قرار دیا ہے۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ صہیونی خاتون فوجی اہلکار نے معصوم بچی کو حراست میں لینے کے بعد اس کی آنکھوں پر پٹی چڑھائی اور ہاتھ پشت پرباندھ کر ایک چیک پوسٹ پر لےجایا گیا جہاں اس کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
