مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عالمی برادری میں اسرائیل کو تنہا کرنا یا اس کے جواز کو ختم کروانا نہیں چاہتے
بلکہ ہماری خواہش ہے کہ ہم مستقبل میں اس کو تسلیم کرکے اس کے مل کر کام کریں۔
ابو مازن کے بہ قول تاہم اس مقصد کے لیے عرب اور اسلامی دنیا کو ’’عرب اقدام برائے امن‘‘ کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنا ہو گا۔ فرانسیسی ہم منصب فرانسوا ہولندا کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ابو مازن محمود عباس نے کہا ہم اسرائیل کو تنہا کرنا چاہتے ہیں نہ اسے اپنے جواز سے محروم کرنا چاہتے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ اس کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ہم اس کی توسیعی پالیسیوں کو محدود کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ہم اسرائیل کے ساتھ پہلو بہ پہلو کام کرنے کو تیار ہیں۔
محمود عباس نے ہولندا کو بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی اس سے قبل بھی مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کر چکی ہے تاکہ اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ ہمارے مذاکرات بحال ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاھو اسیران کی رہائی اور فلسطینی پولیس کے لیے اسلحہ کی درآمد کی حمایت کر چکے ہیں۔ تاہم مذاکرات کی بحالی کے لیے یہودی بستیوں کی تعمیر روکنا اور دونوں ریاستوں کی حدود کا تعین انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں باتیں مذاکرات کی بحالی کی شرط نہیں ہیں بلکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو اسرائیل نے خود اپنے اوپر لازم کی تھیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے کہا کہ اگر ہم اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی بحالی میں کامیاب نہ ہوئے تو ہم جنرل اسمبلی میں غیر کارکن ریاست کے حصول کے لیے رجوع کریں گے۔
بشکریہ: مرکز فلسطیناطلاعات

