مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں اسرائیل کے پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے حکومت کے مشیر قانون کو الزعبی کے خلاف توہین اور تشدد پر اکسانے کے الزام میں فرد جرم تیار کرنے کی سفارشات بھجوائی تھیں۔ الزعبی پر الزام ہے کہ انہوں نے گذشتہ برس بیت المقدس کے ایک کم عمر فلسطینی لڑکے محمد ابو خضیر کی یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں اغواء کے بعد ظالمانہ طریقے سے شہادت کے رد عمل میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا تھا۔
اسرائیلی عدالت کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ مشیر قانون کے پاس فرد جرم کی سفارشات پہنچنے کے بعد بھی الزعبی کو اپنے حق میں ایک ماہ تک دلائل دینے کا حق ہوگا جس کے بعد حکومت عدالت کی سفارش کے مطابق فرد جرم تیار کرے گی۔
ادھر الزعبی کے وکیل اور انسانی حقوق کی تنظیم مرکز العدالہ کے رکن حسن جبارین نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی عدالت سے الزعبی کے مقدمہ کی سماعت شروع کرائیں گے اور مشیر قانون کو ان کے خلاف فرد جرم کی پیشی روکنے پر قائل کریں گے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزعبی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایک پولیس افسر اور ان کی موکلہ کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی پر کسی سیاسی رہ نما کے خلاف فرد جرم عاید کیے جانے کی ماضی میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ اگر الزعبی نے محمد ابو خضیر کی شہادت پر احتجاج کرتے ہوئے پولیس حکام سے تلخ لہجہ اختیار کیا ہے کہ تو یہ ان کا احتجاج تھا جس کا انہیں حق حاصل ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
