مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ایک نئی صہیونی کالونی کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اس کالونی میں ساڑھے تین ماہ قبل رام اللہ کے نواحی علاقے میں قائم ’عامونا‘ کالونی کے آباد کاروں کو بسایا جائے گا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ کے حکم پر ’عامونا‘ صہیونی کالونی کو تین ماہ قبل خالی کرلیا گیا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے ان آباد کاروں کے لیے نئی کالونی بسانے کا اعلان کیا تھا۔اسرائیل کے عبرانی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غرب اردن میں صہیونی سرگرمیوں کے لیے کوآرڈینیٹر یوآو مردکھائی نے حکومت کی طرف سے نئی صہیونی کالونی کے قیام کی توثیق کی ہے۔
نئی صہیونی کالونی وادی استونا میں تعمیر کی جائے گی جس کے لیے اسرائیل نے ’وادی شیلو‘ کا نام تجویز کیا ہے۔ صہیونی ریاست نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اراضی اس کی ریاستی ملکیت ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ’عمونا‘ کالونی خالی کرنے کے بعد گذشتہ فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ بہت جلد ایک نئی کالونی کی منظوری دیں گے جس میں عمونا کالونی کے آباد کاروں کو بسایا جائے گا۔
دسمبر 2014ء کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے ’عمونا‘ کالونی کو غیرقانونی قرار دے کر اسے خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ کالونی فلسطینیوں کی نجی بندوبستی اراضی پرتعمیر کی گئی تھی۔
