اسرائیلی انتظامیہ کے بلڈوزروں نے منگل کی صبح الطور کالونی میں بغیر منظوری تعمیر کے الزام میں ایک فلسطینی گھر کو مسمار کر دیا
۔اسرائیلی انتظامیہ کے اہلکاروں نے اس دوران انہدامی کارروائی کی تصاویر لینے والے القدس کے ایک فوٹو گرافر کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے۔القدس کے مقامی افراد نے ”مرکز اطلاعات فلسطین” کے نمائندے کو بتایا کہ اسرائیلی بلدیہ کے بلڈوزروں نے الطور کالونی میں 90مربع میٹر کی مسافت پر واقع ایک دو منزلہ گھر کو منہد م کردیا، انتظامیہ کا کہنا ہیکہ گھر کے مالک محمد ابو ھوی نے گھر کی تعمیر کے لیے بلدیہ سے منظوری نہیں لی۔ اس دوران اہل علاقہ نے بلدیہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا اورعلاقے میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔اسی دوران القد س کے ایک صحافی علی دوانی کو گھر کو گرانے کے عمل کی ویڈیو اور تصاویر بنانے کی کوشش کی جس پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کردیا، علی دوانی کو ھداسا عین کارم ہسپتال منتقل کر دیا گیا وہ القدس میں پال میڈیا نامی خبر رساں ایجنسی کے لیے کام کرتا تھا۔دوسری جانب نابلس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد نے الطویل گاؤں پر دھاوا بول کر فلسطینیوں کے زیر استعمال متعدد تعمیرات کو منہدم کردیا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے اس علاقے کو ممنوعہ عسکری علاقہ قرار دیکر یہ کارروائی کی۔ گاؤں کے باسیوں نے اسرائیل کی اس کارروائی پر شدید احتجاج کیا اور بتایا کہ اسرائیلی فوجی عہدیدار مسلسل اس علاقے کا دورہ کر رہے تھے اور آج اچانک انہوں نے انہدامی کارروائی شروع کردی۔
