رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی محکمہ امور اسیران کے چیئرمین نے الزام عائد کیا ہے کہ صہیونی ریاست ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطینی اسیران کے آئینی حقوق کو دبانے کی سازش کر رہا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی محکمہ اسیران کے چیئرمین عیسیٰ قراقع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینی عالمی اداروں کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کے مستحق ہیں، مگر اسرائیل فلسطینی اسیران کے حقوق کو دانستہ طور پر نظرانداز کرتے ہوئے انہیں پامال کر رہا ہے۔عیسیٰ قراقع کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست پارلیمنٹ اور نام نہاد قوانین کی آڑ میں فلسطینی اسیران کے حقوق پامال کر رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو عالمی قوانین اور جنیوا معاہدوں کے مطابقÂ اسیران کے حقوق فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست فلسطینی اسیران کے معاملے میں سنگین جرائم کا مرتکب ہے اور اسیران کے خلاف سیاسی اور سفارتی ہتھکنڈوں پر اکسا رہا ہے۔
فلسطینی عہدیدار کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسیران کے حالات بدترین دور سے گذر رہے ہیں۔ فلسطینی اسیران کا معرکہ آئینی، قومی، آزادی، قومی حقوق اور خود مختاری کے حصول کی جنگ ہے۔ تمام فلسطینی اسیران بھی اسی جنگ کی پاداش میں پابند سلاسل ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی خیال رہے کہ اسرائیل کی 30 کے قریب سات ہزار فلسطینی قید وبند کی صعوبتیں اٹھا رہے ہیں۔ ان میں 13 بچیوں سمیت 64 اسیرات،18Â سال سے کم عمر400 بچے اور انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت قید 700 انتظامی محروسین شامل ہیں۔
