اسرائیل کے مذہبی پیشواؤں اور یہودی ربیوں کے ایک وفد نے میخائل مالکیئور کی قیادت میں فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس سے ان کے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں قائم ہیڈ کواٹر میں ملاقات کی۔
یہودی ربیوں کے وفد میں میناحیم ژومان اور فلسطینیوں کے قتل کی حمایت میں مشہور ربی عوفادیا یوسف کا فرزند بھی شامل تھا۔ اسرائیل کے ٹی وی2 کی رپورٹ کےمطابق یہودی ربیوں کے وفد اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور قیام امن کے لیے جاری مساعی پر بات چیت ہوئی۔ ٹی وی نے ذرائع کے حوالےسے بتایا کہ صدر محمود عباس نے یہودی ربیوں کے نمائندہ وفد سےبات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی ریاست کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ اسرائیل قائم رہنے کے لیے وجود میں آیا ہے تاہم اسرائیل کا وجود فلسطینی ریاست کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔
صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کو ‘‘حشرات الارض’’ کہہ کر ان کے قتل کے حق میں فتوے بازی کرنے والے صہیونی ربی‘‘عوفادیا یوسف’’ سے بھی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ حالانکہ عوفادیا کے فلسطینیوں کے بارے میں ریمارکس کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ یہودیوں کے مذہبی رہ نماؤں کے وفد اور فلسطینی صدر کے درمیان ہوئی بات چیت میں مذاہب کے درمیان مکالمے کی مساعی جاری رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں دیر پا امن کے قیام کے لیے تمام ادیان بالخصوص آسمانی مذاہب کے پیروکارں کے درمیان بات چیت کا تسلسل ناگزیر ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
