مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر اریحا میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ، ایک صنعتی زون، ریلوے لائن اور بڑے ہوٹلوں سمیت کئیÂ دوسرے منصوبوں پر غور شروع کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صیہونی حکومت نے اسرائیلی اور عالمی سطح کی بڑی غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر غرب اردن کے شہر اریحا میں جامع مسجد النبی موسیٰ کے قریب بین الاقوانی ہوائی اڈہ بنانے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس شہر میں بین عالمی نوعیت کا صنعتی سیکٹر، ریلوے لائن، ہوٹل اور کئی دوسرے منصوبے بھی شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔یہ منصوبے سابق امریکی وزیرخارجہ جون کیری کے فلسطینی اتھارٹی کے لیے اقتصادی منصوبوں کے پیکج کا حصہ تھا جن میں اریحا اور امریکاÂ کے درمیان آزادانہ تجارت، آمد ورفت اور دیگر منصوبوں کے لیے ہوائی اڈے، تجارتی اور صنعتی زونز کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ تاہم اس وقت صیہونی حکومت نے اس منصوبے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے اس پر کام آگے بڑھانے سے روک دیا تھا۔ امریکا میں اپنی حامی حکومت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سرپرست کی حمایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اب اس منصوبے پر صیہونی ریاست خود کام کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار اور عرب مرکز برائے نقشہ جات کے چیئرمین خلیل تفکجی نے بتایا کہ اریحا میں ہوائی اڈے، ریلوے لائن اور دیگر منصوبے فلسطینی ریاست کے ساتھ مخصوص تھے۔ ماضی میں طے پائے معاہدوں میں بھی فلسطینیوں کو اریحا میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی مگر موجودہ اسرائیلی حکومت اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے دیگر امن سمجھوتوں کی طرح اریحا کی تعمیر وترقی اور وہاں پر ہوائی اڈے کے قیام کے منصوبوں کو بھی تباہ کردیا۔
تفکجی کا کہنا ہے کہ صیہونی ریاست اریحا میں نہ صرف ہوائی اڈہ اور صنعتی زون قائم کرنا چاہتی ہے بلکہ اللد (بن گوریون) ہوائی اڈے کو ملانے والی ایک ریلوے لائن جو اریحا سے گذر کر بیت المقدس اور وہاں سے تل ابیب پہنچے گی، متعدد سڑکیں، پل، ہوٹل اور کئی دوسرے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔
