فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک بیان میں فتحاوی رہنما حانم عبدالقادر نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے پہرے داروں کے ناموں کی فہرست طلب کی ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے محافظوں کی تقرری اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ فتح کے رہنما کا کہنا ہے کہ قبلہ اوّل کے پہرے داروں کی تقرری کا حق اردن سے سلب کرنا مسجد کی سرپرستی اور نگرانی سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ مسجد اقصیٰ کے پہرے داروں اور محافظوں سمیت قبلہ اوّل کی دیکھ بحال پرمامور تمام افراد کی تقرری کا حق فلسطینی محکمہ اوقاف اور اردن کے پاس ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے فلسطینی محکمہ اوقاف سے کہا تھا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے تمام محافظوں کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔ اسرائیل ان محافظوں کی چھان بین کرے گا۔
حانم عبدالقادر نے کہا کہ قبلہ اوّل کے محافظوں کی فہرست طلب کرنا مسجد کے انتظامی امور، فلسطینی محکمہ اوقاف اور اردن کی سرپرستی کے حق میں کھلم کھلا اسرائیلی مداخلت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فتح کے رہنما کی حیثیت سے ہم صدر محمود عباس اور اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کے درمیان طے پائے اس معاہدے سے متفق ہیں جس میں مسجد اقصیٰ کی سرپرستی کا حق اردن کو دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ سوموار کو رام اللہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔ سنہ 2012ء کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ رام اللہ ہے۔
