مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ابوعین کی شہادت کے بعد رام اللہ میں پارٹی کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمود عباس نے کہا کہ ابو عین کی شہادت ہر پہلو سے ایک سنگین جرم ہے اور اس پر صبر اور خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اس واقعے کے رد عمل میں اسرائیل سے نمٹنے کے مختلف طریقوں پرغور کررہی ہے۔
صدر ابو مازن کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے بہت سے آپشنز موجود ہیں اور ہم کسی بھی راستے کو اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرزمین فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر بھی ایک جرم ہے اور اس کے خلاف عوامی مزاحمت فلسطینیوں کا حق ہے جو جاری رہے گی۔ اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے ذریعے فلسطینیوں کو اپنے حقوق اور مطالبات سے دستبردار نہیں کرسکتا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھرعالمی برادری، عالم اسلام اور عرب ممالک کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور انہیں فلسطینیوں کے سلب شدہ حقوق انہیں دلانے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
