مسلمانوں کے قبلہ اول [مسجد اقصیٰ] پر یہودی شرپسندوں نے پولیس اور فوج کی سیکیورٹی میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی کوشش کی لیکن مسجد میں موجود نمازیوں نے یہویوں کی اشتعال انگیز سازش ناکام بنا دی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں یہودی شرپسندوں نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر اس کی چھتوں پر اسرائیل پرچم لہرانے کی سازش تیار کی تھی لیکن قبلہ اول میں نمازیوں کی کثرت اور فلسطینی نوجوانوں کی موجودگی کے باعث یہودیوں کی یہ شرارت ناکام بنا دی گئی ہے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز قابض صہیونی فوج نے بیت المقدس سے دو فلسطینی باشندوں حازم صیام اور دیوار براق کے قریب سے محمد الحربی کو حراست میں لیا جنہیں دو گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا۔ دونوں شہریوں نے بتایا کہ حراست کے دوران صہیونی فوجی ان سے یہودیوں کو مسجد اقصیٰ پر صہیونی پرچم لہرانے سے روکنے والوں کی تفصیلات پوچھتے رہے ہیں۔
تفتیش کے لیے حراست میں لیے گئے شہری محمد الحربی نے بتایا کہ صہیونی پولیس اہلکاروں نے اسے یہودیوں کو اسرائیل اٹھائے جاتے ہوئے تصویریں اتارنے پر تفتیش کی اور کہا کہ آپ نے اسرائیلی پرچم برداروں کی تصاویر کیوں اتاری تھیں۔ صہیونی فوج نے اس کے کیمرے سے تصاویر بھی مٹا دی ہیں اور اس سے کہا کہا ہے کہ وہ آئندہ یہودی پرچم برداروں کی تصاویر نہ اتارے ورنہ اسے جیل میں ڈالا جائے گا۔
