فلسطین میں یہودی آباد کاری کے ماہر اور القدس مخطوطات شعبے کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل "القدس الکبریٰ”[عظیم ترالقدس] کے جس مذموم منصوبے پرعمل پیرا ہے اس کا مقصد مغربی کنارے کی دس فی صد اراضی کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے اس مذموم منصوبے کی تکمیل میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی صہیونی ریاست کی بھرپور معاونت کررہے ہیں۔ انہوں نے القدس الکبریٰ منصوبے کی حمایت کی تجویزبھی پیش کی ہے۔
فلسطینی دانشور اور تجزیہ نگار خلیل تفکجی نے خبر رساں ایجنسی "قدس پریس” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری مغربی کنارے کا دس فی صد اسرائیل کو دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پہلے ہی مغربی کنارے کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے درمیان قائم یہودی کالونیوں”گوش عتصیون”، "معالیہ ادومیم” اور "گفعات زئیو” کو باہم ملا کرالقدس الکبریٰ کا منصوبہ تیاری کیا جا رہا ہے، جس میں دونوں شہروں کی ہزروں ایکڑ اراضی پہلے ہی اس میں شامل کی جا چکی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے حال ہی میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ بیت المقدس کو فلسطینی ریاست اور اسرائیل دونوں کا مشترکہ دارالحکومت قرار دیا جائے۔ اس کے بدلے میں اسرائیل کو مغربی کنارے میں دس فی صد اراضی پر قبضے کا حق دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے امریکی وزیرخارجہ کی یہ تجویز قبول نہیں کی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
