اسرائیل کے عبرانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ سے محض چند میٹر کے فاصلے پر سیاحتی مقاصد کے لیے ایک بڑی اور وسیع عریض عمارت کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
یہ عمارت قدیم بیت المقدس کی دیواروں کے ساتھ ساتھ کم سے کم 16 ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلی ہوگی۔
اسرائیلی اخبار "ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت داخلہ کے زیر اہتمام پلاننگ وتعمیرات کمیٹی نے یہودی توسیع پسندی میں سرگرم "العاد” نامی تنظیم کے تعاون اور اس کی کوششوں سے اس وسیع وعریض عمارت کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ یہ عمارت مسجد اقصیٰ کے جنوب میں سلوان کے مقام پر جلد ہی تعمیر شروع کی جائے گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی تعمیرات کمیٹی کی جانب سے اس عمارت کی تجویز سنہ 2009 ء میں دی گئی تھی اور اسی سال پہلی مرتبہ اس کی منظوری بھی دی گئی تھی۔ سب سے پہلے اس عمارت کے لیے 5460 مربع میٹر کی جگہ مختص کی گئی تھی، لیکن اس میں تین گنا اضافہ کرکے اس کو 16 ہزار مربع میٹر تک وسیع کردی گئی ہے۔
