مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام فلسطین فٹبال یونین کے سربراہ جبریل الرجوب نے گذشتہ روز سوئٹرزلینڈ کے شہر زیوریخ میں ہونے والے فیفا اجلاس میں پہلے تو اسرائیل کی رکنیت کی معطلی کی درخواست دے رکھی تھی لیکن عین رائے شماری سے کچھ ہی دیر قبلہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف دی گئی درخواست واپس لے لی تھی۔
درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسرائیل نہ صرف فلسطینی شہریوں کی اسپورٹس پرپابندیاں عاید کیے ہوئے ہے بلکہ کھلاڑیوں کو قتل اور کھیل کے مراکز کو دانستہ طورپر تباہ کررہا ہے تاکہ فلسطینی کھیل کا شعبہ بری طرح برباد ہوکر رہ جائے۔ فلسطین فٹ بال یونین کی جانب سے درخواست میں”فیفا” کی مرکزی کانگریس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ رائے شماری کے ذریعے اسرائیل کی عالمی فٹ بال فیڈریشن میں رکنیت معطل کرے۔
گذشتہ روز فیفا میں اسرائیلی رکنیت کی معطلی سے متعلق دی گئی درخواست واپس لیے جانے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیاہے۔ جنیوا میں قائم تنظیم یورو ۔ مڈل ایسٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کا "فیفا” میں بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینا ناقابل فہم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے سنہ 2007 ء کے بعد سے فلسطین میں اسپورٹس کے شعبےپربدترین پابندیاں مسلط کر رکھی ہیں۔ سنہ 2009 ء میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ہونے والی ایک تحقیق میں انسانی حقوق کے مندوب رچرڈ گولڈ اسٹون نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اسرائیل دانستہ طورپر فلسطینی شعبہ کھیل کو تباہ وبرباد کررہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "فیفا” میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی درخواست واپس لینا صہیونی ریاست کو انسانی حقوق کی مزید پامالیوں کا موقع فراہم کرنا ہے اور جنگی جرائم کی مزید چھوٹ دینا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
