فلسطینی نوجوانوں کو اپنی چنگل میں پھنسانے اور مختلف حیلے بہانوں سے فلسطینیوں کو اپنے ٹریپ میں لانے کے لیے اسرائیل کے خفیہ ادارے ہردور میں مختلف سازشیں کرتے رہے ہیں۔ اس میدان میں صہیونی انٹیلی جنس ادارے انفارمیشن ٹکنالوجی کا بھی بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی سیکیورٹی سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے "المجد” نیوز ویب پورٹل نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خفیہ ادارہ”شاباک” فلسطینی نوجوانوں کو اپنے ٹریپ میں لانے کے لیے موبائل گیم کو بھی استعمال کر رہا ہے۔ فلسطینی نوجوان آن لائن گیم کھیلتے ہوئے نہ صرف اسرائیلی خفیہ اداروں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں بلکہ وہ لاعلمی میں اہم معلومات بھی انہیں فراہم کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی انٹیلی جنس ادارے سوسائٹی کے تمام طبقات کو فلسطینی نوجوانوں کو اپنے چنگل میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں یہودی آباد کاروں کے ساتھ فلسطینی شہریوں کی ہونے والی بات چیت کو بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں کی جنگی صلاحیت اور معلومات کو جانچنے کے لیے بالا بنفشی شعاعوں سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ کھیل کھیل میں فلسطینی شہری دشمن کو جنگ کے اسالیب اور طریقہ کارکے بارے میں آگاہ کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ موبائل ایس ایم کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو پیغامات دیے جاتے ہیں کہ وہ صہیونی خفیہ اداروں کو معلومات فراہم کریں جس کے بدلے میں وہ انہیں معاوضہ بھی فراہم کریں گے۔ گوکہ یہ چالیں ابھی تک کامیاب نہیںہوسکی ہیںلیکن اسرائیلی خفیہ ادارے ان کا استعمال بھرپور طریقے سے جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔
