فلسطین مقبوضہ بیت المقدس میں قائم”ایچل” جیل میں اسرائیلی فوجیوں اور جیلروں نے دو ہفتے تک فلسطینی اسیران، ان کے کمروں اور سامان کی جامہ تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا جس کے باعث قیدیوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسیران کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں، خفیہ اداروں کے اہلکاروں اور جیلروں نے مشترکہ طور پر "ایچل” جیل کے وارڈ نمبر11 کی تلاشی کا سلسلہ کوئی دو ہفتے قبل شروع کیا تھا۔ اس دوران میٹل ڈیٹکٹر کے ذریعے قیدیوں کے کمروں کی دیواروں، فرش، ان کے سامان اور دیگر متعلقہ اشیاء کی چھان بین کی گئی۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا تاکہ فلسطینی اسیران کے پاس موجود موبائل فونز قبضے میں لیے جا سکیں تاہم دو ہفتوں کی طویل تفتیش کے باوجود یہودی فوجیوں کوموبائل فون اور کوئی دوسری خطرناک چیزنہیں ملی ہے۔ سرچ آپریشن میں کوئی موبائل فون نہ ملنے پراسرائیلی خفیہ اداروں نے سخت برہمی کا بھی اظہار کیا ہے۔جیل کے ذرائع کے مطابق ایک فوجی افسرنے بتایا کہ قیدیوں کے کمروں اور ان کے سامان کی تلاشی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے فلسطینی اسیران کے خلاف سخت اقدامات کی بھی دھمکی دی اور کہا کہ قیدی باز آ جائیں ورنہ انہیں کڑی سزا دی جائے گی۔ تاہم فلسطینی اسیران نے جواب میں اسرائیلی حکام اور جیلروں سے کہا ہے کہ ان کے پاس موبائل اور اس نوعیت کی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور وہ صہیونی فوج کی جانب سے دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔
ذرائع کے مطابق یہودی جیل حکام کل اتوار سے دوبارہ وارڈ نمبر11 کی تلاشی کا سلسلہ شروع کریں گے۔
