• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

"اوسلو” سمجھوتے کے بعد بھی یہودی آباد کاری کاعمل بند نہ کیا جاسکا

جمعرات 07-11-2013
in فلسطین
0
plf oslo
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین میں مسیحی اور مسلم مقدسات کے تحفظ کے لیے سرگرم سپریم مسلم مسیحی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حنا عیسیٰ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت سنہ  1948 ء کے بعد سے آج تک

فلسطینیوں کے خلاف ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ سنہ  1967 ء کی عرب۔ اسرائیل جنگ کے بعد شروع ہوا جو آج تک جاری ہے تاہم اس میں مسلسل تیزی سنہ  1993 ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان طے پائے”اوسلو” امن معاہدے کے بعد آئی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں ایک نیوز کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے حنا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومتیں پہلے مختلف حیلوں بہانوں سے فلسطینیوں کو ان کی اراضی سے محروم کرنے اور انہیں فلسطین سے بے دخل کرنے کی سازشیں کرتی ہیں۔ جب فلسطینی صہیونی جبرو تشدد کے بعد ملک چھوڑ جاتے ہیں توان کی املاک کو "املاک متروکہ” قرار دے کر انہیں بحق اسرائیلی سرکار وقف کرلیا جاتا ہے۔ بیت المقدس کے باشندے اسرائیل کی اس ریاستی دہشت گردی کا بدترین ہدف ہیں جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

فلسطینی سماجی رہ نماکا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس کو یہودی مذہبی رنگ میں ڈھالنے کی سازشیں کررہا ہے۔ صہیونی حکومتوں کے ساتھ ملک کی دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں بھی حکومت کا ساتھ دیتی ہیں۔ انتہا پسند گروپ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد میں جلدی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یوں صہیونی  ریاست کی جانب سے بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کے حقوق کی بدترین پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔

حنا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کئی قسم کے حیلوں بہانوں سے فلسطینیوں کی اراضی ہتھیانے کی سازشیں کرتا ہے۔ فلسطینیوں کو بے دخل کردیا جاتا ہے اور ان کی املاک براہ راست صہیونی حکومت کے قبضے میں آجاتی ہیں۔ اس کےعلاوہ فلسطینیوں کی اراضی کو فوجی کیموں کا حصہ قرار دے کر فلسطینیوں کوان سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیت المقدس میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں کی کوئی حدود نہیں ہیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ کالونیاں پھیلتی جا رہی ہیں۔ سڑکوں کی توسیع اور پبلک پارکس کی تعمیرات کی آڑ میں بھی فلسطینیوں کی اراضی غصب کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین اسرائیل امن مذاکرات کے ایک طویل تسلسل میں بھی فلسطینیوں کی اراضی اور املاک پرغاصبانہ قبضے نہیں روکے جاسکے ہیں۔ توقع تھی کہ سنہ  1993 ء میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام اور اسرائیل کے ساتھ طے پائے اوسلو امن سمجھوتے کے بعد اسرائیل فلسطینیوں کی اراضی پرغاصبانہ قبضے اور یہودی توسیع پسندی کا عمل ترک کردے گا لیکن بدقسمتی سے اس معاہدے کے بعد اسرائیل نے اپنی ان غاصبانہ سرگرمیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی بھی اسرائیلی توسیع پسندی کو لگام دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.