فلسطین کے محاصرہ زدہ شہر غزہ کی پٹی کی حکومت نے مغربی کنارے میں حکمراں صدر محمود عباس کی انتظامیہ کی حج پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ غزہ حکومت کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے کہا ہے کہ رام اللہ انتظامیہ عازمین حج کے معاملے پر سیاست چمکانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اسے ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزیر نے اپنے ایک بیان میں رام اللہ اتھارٹی کی غزہ کے پٹی سے تعلق رکھنے والے عازمین حج کے بارے میں پالیسی کو دشمنانہ قرار دیا۔ بیان میں میڈیا میں افشاء ہونے والے رام اللہ انٹیلی جنس کی اس سازش کی بھی شدید مذمت کی گئی جس کے ذریعے غزہ کے حجاج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ حال ہی میں میڈیا میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ رام اللہ اتھارٹی کےانٹیلی جنس حکام نے مصری انٹیلی جنس کو غزہ کی پٹی کے 93 حجاج کرام کی ایک فہرست فراہم کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فہرست میں شامل نام غزہ کی پٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تمام اسلام پسند جنگجو ہیں جو حج پر گئے ہیں۔ ان کا تعلق غزہ کی پٹی کی مختلف جہادی تنظیموں سے ہے جو مصرکی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
فلسطینی وزیر ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے کہا کہ قاہرہ کو رام اللہ کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں شامل تمام نام بے ضرر ہیں۔ ان سے مصر کی سلامتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور نہ ہی ان کا تعلق کسی ایسی تنظیم کے ساتھ ہے جو مصر کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ یہ ایک سازش ہے جو رام اللہ اتھارٹی نے حج کےموقع پر سیاست چمکانے کے لیے شروع کی ہے۔ غزہ حکومت اس سازش کو تسلیم نہیں کرتی اور اسے ناکام بنانے کے لیے ہرممکن اقدام کرے گی۔
فلسطینی وزیر کا کہنا تھا کہ عازمین حج کو مصر کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دینا کتنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا رام اللہ اتھارٹی کے پاس جھوٹ اور دروغ گوئی کے علاوہ اور کوئی کام باقی نہیں بچا ہے۔ میں خبردار کرتا ہوں کہ اگر غزہ کی پٹی کے کسی عام حج کی سلامتی خطرے میں پڑی تو رام اللہ اتھارٹی کو اس کا جواب دینا ہو گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
