فلسطین کی ایک سرکردہ سیاسی جماعت "عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین” نے ایک مرتبہ پھر فلسطینی اتھارٹی سے اسرائیل سے جاری نام نہاد امن مذاکرات ختم کرنے اور قومی مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عوامی محاذ کے اسرائیلی جیل میں قید سیکرٹری جنرل احمد سعدات کا کہنا ہے کہ سنہ 1994 ء میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان طے پایا "اوسلو امن معاہدہ” فلسطینیوں کی شکست اور صہیونیوں کی فتح تھی۔ بدقسمتی سے فلسطینی اتھارٹی نے اس معاہدے سے کچھ بھی سبق نہیں سیکھا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کے ذریعے احمد سعدات نے اسرائیل کی "الشطہ” جیل سے پارٹی کارکنوں کے نام ایک مراسلہ بھیجا ہے، جس میں انہوں نے صدر محمود عباس اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات کی سخت مخالفت کی ہے۔ اسیر رہ نما کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک دھوکے باز ملک ہے اور فلسطینیوں کو صہیونیوں کو دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔ اوسلو معاہدہ فلسطینیوں کو حقوق دلوانے کے لیے کیا گیا تھا مگر معاہدے میں فلسطینیوں کے حقوق کی ایک شرط بھی نہیں مانی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر پر پابندی لگا دی تھی، لیکن اس معاہدے کے بعد اسرائٓیلی دشمنوں نے یہودیت کے فروغ کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کردیا۔ اب بھی فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کی جانب سے ایک اور "لولی پوپ” لے کر اسرائیل کو مفت کی خدمت فراہم کرتے ہوئے فلسطین میں یہودی آباد کاری کی مزید راہ ہموار کر رہی ہے۔
احمد سعدات کا کہنا ہے کہ اوسلو معاہدے میں فلسطینیوں کو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں کسی حد تک آزادی دینے کی بات کی گئی تھی۔ میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ آیا فلسطینیوں کو کتنی آزادی ملی ہے۔ غزہ کی پٹی مسلسل کئی سال سے معاشی محاصرے کا شکار ہے اور مغربی کنارے کے کسی مریض تک کو بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت نہیں۔ شہروں میں اسرائیلی فوجیں دن رات دندناتی پھرتی ہیں اور فلسطینی اتھارٹی نے اپنی پولیس بھی یہودیوں کے تحفظ پر لگادی ہے۔
احمد سعدات کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے امن مذاکرات صرف فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کے چند حامیوں کا ایجنڈا ہے، جسے پوری قوم کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ یہ مذاکرات اس لیے بھی وقت کا ضیاع ہیں کیونکہ ان کی سرپرستی اور نگرانی امریکا کر رہا ہے۔ امریکا کے مد نظر ہمیشہ اسرائیل کا مفاد ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذاکرات جن شرائط پر ہونے چاہئیں وہ شرائط سرے سے پائی ہی نہیں جاتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
