اسرائیلی حکومت کے ایک سینیئر وزیر اور پارلیمنٹ میں شدت پسند یہودیوں کی نمائندہ”جیوش ہوم” پارٹی کے رکن اسمبلی نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ سنہ1994ء میں طے پایا "اوسلو امن معاہدہ” اب ردی کی ٹوکری کی نذر ہو چکا ہے نیز یہ کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور اب ایک خواب اور سراب ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "فیس بک” کے اپنے خصوصی صفحے پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہوئے وزیراقتصادیات مسٹر بینیٹ نے لکھا ہےکہ"میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی حکومت کے جاری مذاکرات پر یقین نہیں رکھتا۔ ممکن ہے میرے اس خیال سے مجھے حکومت سے بھی الگ کر دیا جائے لیکن میرا فرض یہ ہے کہ قوم کو بتاؤں کہ حقیقت ہے کیا۔ میرے خیال میں اب فلسطینی ریاست کا تصور محض ایک سراب دکھائی دیتا ہے۔ میں یہودیوں اور صہیونیوں کو صرف ایک سانحے سے بچنے کے لیے متنبہ کر رہا ہوں”۔
اسرائیلی وزیر مزید لکھتے ہیں کہ سنہ 1990ء کےعشرے میں اسرائیلی سیاسی قیادت نے آزاد فلسطینی ریاست کا تصور قبول کیا تھا لیکن دراصل وہ تصور اسرائیلیوں کے لیے ایک آلہ قتل ثابت ہوا ہے۔ اب فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں بہت کم دلائل باقی بچے ہیں۔
خیال رہے کہ صہیونی وزیراقتصادیات کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی حکام امریکا کی نگرانی میں براہ راست مذاکرات کر رہے ہیں۔ گوکہ ایک وزیرکا بیان حکومت کی ترجمانی نہیں کرتا اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اس کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام یا فلسطینیوں کو ان کے دیرینہ حقوق کی حمایت سے کھلا انکار نہ کرتے ہوں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
