اسلامی تحریک مزحمت”حماس” کے مرکزی رہ نما اور جماعت کے سیاسی شعبے کے رکن ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان نام نہاد امن مذاکرات کو قومی مفاہمتی کوششوں کو ناکامی دوچار کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدرمحمود عباس نے اسرائیلی دشمنوں سے مذاکرات شروع کرکے قومی مفاہمتی مساعی کو”فریزر” میں ڈال دیا ہے۔
اخبارالقدس العربی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر مرزوق کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے مذاکرات ماضی میں بھی بے سود ثابت ہوئے ہیں اور اب بھی ان کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ انہوں نے صدرمحمود عباس کی جماعت ‘فتح’ کی جانب سے جاری اس بیان پر بھی تنقید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر عباس حماس سے مشاورت کے بغیر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا شیڈول جاری کر سکتے ہیں۔ حماس رہ نما نے اس بیان کو قومی مفاہمت کی راہ میں روڑے اٹکانے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ تحریک فتح مصالحتی کوششوں کو ناکام بنانے کی ذمہ دار ہے۔
فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمتی کوششوں اور اسرائیل سے مذاکرات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ابو مرزوق نے کہا کہ "یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اسرائیل سے جب بھی مذاکرات ہوئے قومی مفاہمت تعطل کا شکار ہوئی ہے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ صدر محمود عباس نے صہیونی دشمنوں سے مذاکرات شروع کر کے قومی مفاہمتی مساعی کو”فریزر” میں ڈال دیا ہے۔
خیال رہے کہ مصرمیں تین جولائی کے فوجی انقلاب سے قبل سابق معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون نے فلسطینی دھڑوں میں صلح کرانے کی گراںقدر کوششیں کی تھیں۔ قاہرہ کی مساعی کے نتیجے میں متحارب فلسطینی دھڑے ایک دوسرے سے صلح کرنے اور مشترکہ قومی حکومت کی تشکیل پر متفق ہو چکے تھے، تاہم صدرمحمود عباس نے امریکی سرپرستی میں اسرائیل سے مذاکرات کا آغاز کرکے قومی مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
