پارلیمنٹ(کنیسٹ) حسب معمول فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ قوانین کی منظوری کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ فلسطینیوں سے دشمنی پر مبنی قوانین کی منظوری صہیونی پارلیمنٹ کا سب سے ضروری کام اور کا سر درد بن چکا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی ایک تنظیم”المیزان برائے انسانی حقوق” نے صہیونی پارلیمنٹ کی فلسطینیوں کےخلاف نسل پرستانہ قوانین سازی کو دلچسپ پیرائے میں بیان کرتے ہوئے اسے "فلسطینیوں کے خلاف صہیونی کنیسٹ کا بخار” قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ اور دیگر قانون ساز اداروں کے درمیان فلسطینیوں کی مخالفت میں اقدامات کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور ہرایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ مقابلے کی یہ کیفیت کنیسٹ کے انتہا پسند اراکین میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز پرمبنی قوانین کی منظوری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
المیزان کی رپورٹ کے مطابق صہیونی کنیسٹ کے اراکین میں مقابلے کی یہ کیفیت ایک تازہ مسودہ قانون پیش کرنے کے بعد نمایاں انداز میں دیکھی گئی ہے۔ بل کا یہ مسودہ حکومت میں شامل شدت پسند جماعتوں کے اتحاد "لیکوڈ۔ بیتونا۔ اور البیت الیہودی” کے چیئرمین "بریو لوین” کی جانب سے کنیسٹ میں پیش کیا گیا۔ اس مسودہ قانون میں پہلے سے موجود آئین میں ترمیم کرتے ہوئے اسرائیل کوصرف یہودی قوم کا وطن قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ سابق آئین جس کا مسودہ ایک دوسرے رکن پارلیمنٹ آوی دیختر نے کچھ عرصہ قبل پیش کیا تھا،اس کی رو سے صہیونی ریاست کو” یہودی جمہوریہ اسرائیل” قرار دیا گیا تھا۔ موجودہ مسودہ قانون میں جمہوریہ کو ختم کرکے صہیونی ریاست کا تشخص صرف”یہود کا قومی وطن اصلی” قرار دیا جا رہا ہے۔
مجوزہ آئینی ترمیم کی تفصیلات معلوم کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس قانون کا اصل ہدف یہودیوں کے لیے وطن نہیں بلکہ فلسطینی قوم کے حقوق پر ڈاکہ زنی کرنا ہے۔ کیونکہ ایسے کسی بھی قانون کی منظوری سے سب سے زیادہ منفی اثرات ان فلسطینیوں پر پڑیں گے جو مقبوضہ عرب علاقوں میں رہتے ہوئے صہیونی ریاست کا حصہ ہیں۔ یوں اس قانون کی رو سے وہ دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری تصور کیے جائیں گے اور اسی مرتبے کے انہیں حقوق میسر ہوں گے۔ چونکہ اس قانون کی رو سے اسرائیل صرف یہودی قوم کا وطن خاص ہوگا جس میں کسی بھی دوسری قوم کا کوئی آئینی مقام نہیں ہوگا۔
میزان فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق صہیونی کنیسٹ کے انتہا پسند یہودی اراکین کو فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز پرمبنی قوانین پیش کرنے کا ایک بخارچڑھا ہوا ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ پیش آئند ایام میں مزید یہودی اراکین بھی اپنی اپنی جانب سے اسی طرح کے مسودہ ہائے قوانین پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کریں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیازکی یہ آگ آج نہیں سلگائی گئی بلکہ یہ اس وقت سے جاری ہے جب فلسطین میں یہودیوں کے لیے اسرائیل بطور وطن قائم کیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
