اقوام متحدہ کےزیرانتظام انسانی حقوق کونسل نے فلسطین سے گرفتار کیے گئے کم عمرفلسطینیوں کے ساتھ قابض صہیونی فوج کے شرمناک سلوک پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کم عمر افراد کی گرفتاری کو عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کونسل کے نگران رچرڈ فولک نے بیت المقدس میں کم عمر فلسطینی اسیران کے عزیزواقارب سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ انہیں یہ سن کر گہرا صدمہ پہنچا ہےکہ اسرائیلی سیکیورٹی ادارے اور فوج کم سن فلسطینیوں کو جیلوں میں ڈال کر ان پر ظالمانہ تشدد ڈھا رہی ہے۔ حتی کہ فلسطینی بچوں کو اپنے لیےوکیل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کایہ طرز عمل نہایت افسوسناک اور قابل گرفت ہے۔
اقوام متحدہ کےاہلکارنے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ کم عمر فلسطینیوں کے بارے میں عالمی قوانین کے مطابق پالیسی اختیار کرے۔ اگر اسرائیلی جیلوں میں اٹھارہ سال یا اس سے کم عمر کے افراد موجود ہیں تو انہیں رہا کیا جائے ۔
خیال رہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں بارہ سےاٹھارہ سال کی عمر کے دو سو سے زائد کم عمر فلسطینی بچے زیرحراست ہیں۔ ان کم سن محروسین کے ساتھ صہیونی فوج اور جیل اہلکارظالمانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
