فلسطینی شہر غزہ کی پٹی میں حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی حکومت نے صدر محمود عباس کی جماعت "الفتح” کی جانب سے قومی مصالحت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزامات کی شدید مذمت کی ہے۔
فلسطینی حکومت کے ترجمان طاہرنونو کا کہنا ہے کہ فتح کے قائدین کے مسلسل زبان درازی مفاہمت کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حکومت کے ترجمان نے فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن عزام الاحمد کے اس بیان کی شدید مذمت کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ حماس کی حکومت منظم انداز میں مصالحت کی مساعی کو سبوتاژ کر رہی ہے۔
اپنے ایک بیان میں طاہرنونو نے کہا کہ عزام الاحمد کے ریمارکس مفاہمت کے سلسلے میں فتح پرعائد ذمہ داریوں سے فرار کی کوشش ہے۔ صدر محمود عباس کی جماعت مفاہمت کے سلسلے میں اپنے فرائض پورے کرنے کے بجائے اپنی ناکامی پر حماس کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ فتح نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مفاہمت کے سلسلے میں کسی ایک شرط پر بھی عمل نہیں کیا۔ سیاسی گرفتاریاں جاری ہیں اور جیلوں میں پابند سلاسل سیاسی کارکنوں کو رہا نہیں کیا گیا۔ ایسے لگ رہا ہے کہ فتح امریکی ڈالروں کو قومی مفاہمت پرترجیح دے رہی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینیوں کے درمیان قومی حکومت کی تشکیل کے بعض معاملات تعطل کا شکار ہیں۔ ایسے میں فتح کی جانب سے ناکامی کی ذمہ دار حماس اور اس کی غزہ میں قائم حکومت کو قرار دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں فلسطینی صدر کی جماعت الفتح کے مرکزی رہ نما عزام احمد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینیوں کےدرمیان مفاہمت کی راہ میں ایران حماس کے ذریعے رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تہران نے حماس کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کو مفاہمت نہ کرنے کے لیے پیسے دیے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

