فلسطینی صدر محمود عباس المعروف ابومازن کی جماعت الفتح کی داخلی صفوں میں شدید نوعیت کے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ فتح کی مرکزی کمیٹی کے ایک سینیئر رہ نما نے تسلیم کیا ہے کہ فتح کی داخلی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات نہایت سینگین ہیں
ان سے جماعت کے منحرف لیڈر محمد دحلان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کے سپریم کمیٹی کے رکن ڈاکٹر یحییٰ رباح نے ایک عرب خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت کی مرکزی قیادت میں کئی اہم قومی ایشوز کے معاملے پر سنگین نوعیت کے اختلافات موجود ہیں جو ایک بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتح کی چھٹی مرکزی کانفرنس بھی ان اختلافات کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
ڈاکٹر رباح کہہ رہے تھے کہ فتح کی قیادت فلسطین کی داخلی صورت حال بالخصوص پارٹی کے اسٹریٹیجک معاملات کو بھی نظرانداز کر رہے ہیں جس کے باعث پارٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پارٹی سے نکالے گئے لیڈر محمد دحلان اور مشہراوی سمیت دیگر رہ نما بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اورعوام کو پارٹی کی موجودہ قیادت سے بدظن کر سکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں یحییٰ الرباح نے کہا کہ فتح کی صفوں میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں ۔جماعت میں پہلی مرتبہ سنہ 1983ء میں بڑے پیمانے پر اس ینوعیت کے اختلافات سامنے ائے تھے اور فتح کی مرکزی کونسل بکھر کر رہ گئی تھی۔ آج پھر فتح اسی طرح کے سنگین داخلی بحران کا شکار ہے۔

