فلسطین کے مقبوضہ شہر بیت المقدس میں کئی کالونیوں میں صہیونی فوج کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ مسجد اقصیٰ کے جنوب میں بستان کالونی اور سلوان ٹاؤن کا صہیونی فوج کی جانب سے گھیراؤ کر لیا گیا ہے۔
قابض فوج کی جانب سے فلسطینی کالونیوں کا گھیراؤ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دوسری جانب قابض فوج نے بستان کالونی میں فلسطینیوں کے تعمیرکیے گئے تمام مکانات مسمار کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد نے جمعہ کے روز ہی بیت المقدس کے مرکزی علاقوں وادی حارہ، راس العمود،حارہ الوسطیٰ اور بطن الھویٰ میں فوج کی تعداد میں اضافہ کر دیا تھا جبکہ ہفتے اور اتوار کے روز بستان اور سلوان کے علاقوں کا بھی گھیراؤ کر لیا گیا ہے۔
ادھر سلوان سےعینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قابض صہیونی فوج نے سلوان میں ایک رفاعی تنظیم کے دفتر پر قبضہ کر کے اس کا سامان بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ "سلوان چیئرٹی "کے نام سے کام کرنے والی تنظیم کے دفتر پر پہلے بھی قابض فوج کی جانب سے حملے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم اتوار کے روز تنظیم کے ڈائریکٹر خلیل العباسی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ صہیونی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تنظیم فلسطین کی اسرائیل مخالف جماعت حماس کے مالی تعاون سے کام کرتی ہے اور یہ بیت المقدس میں اسرائیل کےخلاف سرگرم ہے۔
بیت المقدس کے تاریخی علاقے سلوان میں قابض فوج کی آمد کے بارے میں سلوان دفاعی کمیٹی کے نگران فخری ابودیاب کا کہنا ہے کہ انہیں فوج کی آمد کی وجوہات کا علم نہیں ہو سکا تاہم انہیں ڈر ہے کہ قابض فوج علاقے میں فلسطینیوں کےخلاف ایک نئی کریک ڈاؤن کی کارروائی شروع کرنے والی ہے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد کی بیت المقدس کے آس پاس کی کالونیوں میں آمد اور کئی علاقوں کے گھیراؤ کے بعد مقامی شہریوں میں خوف ہراس کی فضاء پائی جا رہی ہے۔

