مرکززطلاعات فلسطین کے مطابق لیبر پارٹی کی قیادت کے چنائو کے لیے ہونے والے انتخابات میں مسٹر کوربن کو 59.5 فی صد رائے دہندگان نے جماعت کا نیا صدر منتخب کیا۔ ان کا مقابلہ پارٹی کی صدارت کے لیے تین دیگر رہ نمائوں بورنھام، ایفیت کوبر اور لیز کینڈال کے ساتھ تھا۔ مذکورہ تینوں امیدوار بنیاد پرست اور بائیں بازو کی طرف کم میلان رکھنے میں شہرت رکھتے ہیں اور عمر میں بھی کوربن سے چھوٹے ہیں۔
جیرمی کوربن کو لیبر پارٹی کا صدر منتخب کیا جانا برطانیہ کی سیاست بالخصوص لیبر پارٹی کی سیاست میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ انتخاب رواں سال سات مئی کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں شکست کے بعد پالیسی تبدیل کرنے کا نتجہ ہو تاہم اس فیصلے سے جہاں بہت سے حلقوں کو خوشی اور اطمینان ہوا ہے وہیں اسرائیل اور برطانیہ میں اسرائیل نواز لابی کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا فطری بات ہے۔
لیبر پارٹی کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ایڈ میلی بینڈ کے 10 سالہ دور میں جماعت میں اکثریت دائیں بازو کے بنیاد پرست عناصر کے ہاتھ میں رہی تاہم اب سنہ 2020 ء کے پارلیمانی انتخابات تک فیصلہ سازی کا اختیار جیرمی کوربن کے پاس ہے۔
جیرمی کوربن کے نظریات
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نظریاتی طورپر جیرمی کوربن فلسطینیوں اور عربوں کے حامی جب کہ صہیوں کے سخت مخالف رہے ہیں۔ انہوں نے سنہ 2003 ء میں امریکا کی قیادت میں عراق پرحملے کی بھی سخت مخالفت کی تھی۔ اس کے علاوہ کئی کئی عالمی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے حامی ہیں۔
سنہ 2012 ء میں 66 سالہ جیرمی کوربن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "اگرہم فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا اعتراف نہیں کرتے ہیں تو ہمیں اس کے بھیانک نتائج بھگتنا پڑیں گے اور برطانیہ بھی اس کا ذمہ دار ہوگا”۔
یورپی مہم نامی تنظیم نے جب اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اراکین پارلیمنٹ کی رہائی کے لیے برطانیہ میں مہم چلائی تو جیرمی کوربن کو عالمی پارلیمنٹ میں اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا۔ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کوربن کو نمائندہ مقرر کرنے سے ان کی فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے خدمات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے عالمی سطح پر اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی ممبران پارلیمنٹ کی حمایت میں نہایت جرات اور بہادری کے ساتھ آواز بلند کی اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی حمایت کے حلقہ اثر میں خاطر خواہ اضافہکیا۔
پچھلے سال جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کی تو جیرمی کوربن اس وقت بھی فلسطینی قوم کے دفاع میں ڈٹ کر کھڑے رہے۔ انہوں نےباربار یہ مطالبہ کیا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کو آزادی دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت بند کرائے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ اور مبصرین کا کہنا ہے کہ جیرمی کوربن برطانوی عوام میں بھی بے پناہ مقبولیت رکھتے ہیں۔ ان کی عوامی مقبولیت کی وجہ سادگی کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق کی حمایت بھی اہم ترین سبب ہے۔
