مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی سائنس دان مزید عیاد نے حال ہی میں "ناسا” کے زیراہتمام تجربہ گاہوں میں خلائی تحقیقات کے سلسلے میں ہونے والے تحقیقاتی کام کا ایک خاکہ ڈیزائن کیا جسے "ناسا” نے پسند کرتے ہوئے لطفی مزید عیاد کو EPAM نامی ایوارڈ دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی”قدس پریس” کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے سلواد قصبت سے تعلق رکھنے والے فلسطینی سائنسدان نے ساڑھے سات ماہ کے عرصے میں "ناسا” کی خلائی تحقیقات کا ایک خاکہ ڈیزائن کیا جسے ناسا کے حوالے کیا گیا۔ ناسا کی جانب سے کینیڈا کے خلائی تحقیقاتی ادارے” KSC ” کے صدر دفتر میں ایک تقریب کااہتمام کیا جس میں فلسطینی سائنس دان کے تیار کردہ تجرباتی خاکے کی نمائش کی گئی اور اسی تقریب میں اسے ایوارڈ بھی دیا گیا۔
واضح رہے کہ فلسطینی سائنسدان لطفی مزید عیاد کی اپنی ایک انجینیئرنگ کمپنی بھی ہے۔ ناسا کی جانب سے کچھ عرصہ قبل اسےاپنی خلائی تحقیقات کے بارےمیں ہونے والی تجربات کا ایک بڑا خاکہ تیار کرنے کا ٹاسک دیا تھا جسے اس نے نہایت خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ کم سے کم وقت میں نہ صرف پور کیا بلکہ تجربات کا ناقابل یقین خاکہ ڈیزائن کرکے خلائی سائنسدانوں کو بھی حیران کردیا۔
عیاد نے بتایا کہ اس نے "ناسا” کی خلائی تحقیقات کا دو اجزاء میں خاکہ تیار کیا ہے۔ پہلےحصے میں خلائی تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والی تصاویر اور تحقیقاتی تجربات کو شامل کیا گیا ہے جب کہ دوسرے میں خلائی تحقیقات کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور مشینوں کو ایک بڑے بورڈ پر تصاویر کی شکل میں پیش کیاہے۔
اس کا کہنا تھا کہ "ناسا” جیسے ادارے کی جانب سے اپنے تجربات کا خاکہ تیار کرنے کا ٹاسک نہایت مشکل اور پیچیدہ کام تھا کیونکہ خلائی تحقیقات کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور مشینوں تک رسائی اور ان کی مکمل تصاویر کا ڈیزائن تیار کرنا ایک وقت طلب اور مشکل مرحلہ تھا کیونکہ عام طورپر کسی بھی شخص کو ناسا کے اندرونی نظام تک رسائی کی اجازت نہیں ہوسکتی۔ تاہم انہوں نے ناسا کی تجربہ گاہوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد مقررہ وقت کے اندر اندر اس کا خاکہ ڈیزائن کردکھایا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
