مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیروت میں "یوم نکبہ” کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی برکہ نے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون ختم کرے اور مغربی کنارے کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ بنائے۔
انہوںنے کہا کہ "النکبہ” اچانک رو نمانہیںہوا بلکہ یہ سال ہا سال کی سازشوں کا نتیجہ تھا جو 67 سال قبل فلسطینی قوم کو یہودیوں کی شکل میں دیکھنا پڑا ہے۔ اس کے ازالے کا واحد راستہ مسلح جدو جہد میں مضمر ہے۔ فلسطینی قوم کے پاس جس طرح کے بھی وسائل ہیں وہ ان کے ساتھ النکبہ کا بدلہ لینے کی جدو جہد شروع کردے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین تین بنیادی عناصر کا مجموعہ ہے۔ ارض فلسطین، فلسطینی قوم اور مقدسات اس کے تین اہم اجزاء ہیں۔ ان تینوں حقوق کا حصول صرف انتفاضہ اور مزاحمت سے ممکن ہے کیونکہ طاقت کے ذریعے سلب کیے گئے حقوق صرف طاقت ہی کے ذریعے واپس لیے جاسکتے ہیں۔
حماس رہ نما نے فلسطینی صدر محمود عباس پر زور دیا کہ وہ تنظیم آزادی فلسطین کو نئی بنیادوں پر تشکیل دیں، اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے میںسیکیورٹی تعاون ختم کریں اور صہیونی ریاست کے جنگی جرائم اور مظالم کے خلاف متفقہ تزویراتی اور دفاعی حکمت عملی اپناتے ہوئے مغربی کنارے کو آزادی کے بیس کیمپ میں بدل دیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
