فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جدو جہد کے ساتھ ساتھ سرگرم فلسطینی تنظیم”اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے انفارمین ٹیکنالوجی کے ماہرین بالخصوص عرب اور اسلامی ممالک کے ماہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے خلاف سائبر وار شروع کر دیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نےاپنے ایک بیان میں حالیہ دنوں کے دوران اسرائیلی بنکوں اور دیگر اہم ویب سائیٹس پر ہیکرز کے حملوں کے تناظر میں کہا ہے کہ "صہیونی دشمن کے ہرقسم کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہماری مزاحمت کا حصہ ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی آئی ٹی کے ماہرین موجود ہیں انہیں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی کمپیوٹرز پر سائبر حملے کر کےصہیونی ریاست کا آئی ٹی کا پورا سسٹم تباہ کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی اور فلسطینی ہیکرز کی جانب سے حالیہ دنوں میں اسرائیلی ویب سائیٹس اور کمپیوٹرز تک رسائی نے آئی ٹی کے ماہرین بالخصوص صہیونی ریاست کے خلاف جہاد کے لیے سرگرم کارکنوں کے لیے مزاحمت کا ایک نیا میدان تیار کیا ہے۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ عالم اسلام اور عرب ممالک کو اپنے ہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو عام کرنے کے لیے تمام وسائل کو استعمال کرنا چاہیے اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرائع استعمال کر کے اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کو ہرممکن تعاون فراہم کرنا چاہیے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عرب ممالک اور دیگر کسی بھی ملک کے ہیکرز اس کی حساس معلومات چوری کر سکتے ہیں۔ صہیونی فوج نے حساس معلومات کے تحفظ اور مخالفین پر سائبر حملے کرنے کے لیے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دی ہے۔ یہ یونٹ تین سو آئی ٹی ایکسپرٹس پر مشتمل ہے جونہ صرف سائبرحملوں کی روک تھام کے ماہر سمجھے جاتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے کسی بھی دوسرے ملک ، جماعت یا ادارے کے خلاف سائبرجنگ شروع کی جا سکتی ہے۔

