امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے اپنے اسرائیلی ہم منصب شمعون پیریز کو”تمغہ حریت” دینے پر فلسطینی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے امریکی صدر کی جانب سے اسرائیلی صدر کو تمغہ حریت دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس اقدام نے امریکاکی صہیونیت نوازی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "فیس بک پر” پراپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ امریکا کی جانب سے شمعون پیریز کو تمغہ حریت دینا کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیونکہ ہمیں امریکیوں سے کسی خیر کی توقع پہلے بھی نہیں۔ امریکا نے کبھی بھی فلسطینیوں کے ساتھ انصاف نہیں بلکہ جب بھی انصاف اور قانون کی بات ہوئی امریکا نے صہیونی نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے انصاف کا قتل کیا۔
امریکی صدر کی جانب سے اپنے صہیونی ہم منصب کو جو تمغہ حریت دیا گیا ہے کہ اس بات کا اعتراف ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم جائزہیں اور اسرائیل کی تمام غیرقانونی سرگرمیاں بھی درست ہیں۔ امریکا نہ صرف ان کی حمایت کرتا ہے بلکہ غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کے باوجود اسرائیلی سلامتی کا ضامن ہے اور اسرائیلی عہدیداروں کو تمغہ ہائے جرات اور حریت دیتا رہے گا۔
خیال رہے کہ امریکی صدرباراک اوباما کی جانب سے حال ہی میں اعلان کیا گیا تھا کہ وہ دنیا کی بعض اہم شخصیات کو ان کے کارناموں کے اعترافات میں تمغہ حریت دیں گے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی صدر شمعون پیرز، سابق امریکی وزیرخارجہ میڈیل البرائٹ، پاپ گلو کار پوپ ڈیلون، افسانہ نگار ٹونی موریسون شامل ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

