فلسطین کی تیسری بڑی سیاسی اور مذہبی جماعت اسلامی جہاد نے واضح کیا ہے کہ ملک میں قومی حکومت کے سربراہ کے لیے صدر محمود عباس کی نامزدگی پر اسے کوئی اعتراض نہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح نے پیر کے روز رام اللہ میں میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ گذشتہ مہینے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری حکومت کی میزبانی میں حماس اور فتح کی قیادت نے قومی حکومت کی تشکیل کے لیے جو فیصلے کیے ہیں، اسلامی جہاد کو ان پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کی جماعت صدر محمودعباس کو قومی حکومت کا سربراہ (نگراں وزیراعظم) بنائے جانے کے فیصلے پر مطمئن ہیں۔
اسلامی جہاد کے رہ نما کا کہنا تھا کہ فلسطین کی نئےسیاسی اتحاد اور تنظیم نو کے ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل ضروری ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین کے نئے ڈھانچے میں تمام قومی قوتوں کو نمائندگی ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر رمضان شلح کا کہنا تھا کہ اسلامی جہاد فلسطینی سیاست اور قومی معاملات کی اہم فصیل ہے،یہی وجہ ہے ان کی جماعت قومی معاملات کے لیے ہونے والے مذاکرات میں اپنا وجود ضروری سمجھتی ہے۔ ہم اس لیے قومی حکومت کی تشکیل کے لیے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمارا قومی فریضہ ہے اور اس سلسلے میں سوال جواب کرنا ہمارا حق بھی ہے۔
انہوں نے صدر محمود عباس کو قومی حکومت کا سربراہ منتخب کرنے سے متعلق اسلامی جہاد کی قیادت میں پائے جانے والے اختلافات کی تردید کی اور کہا ان کی جماعت کومحمود عباس کو نگراں وزیراعظم بنائے جانے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اصل فریق حماس اور فتح متفق ہو جائیں تو باقی فلسطینی دھڑے خود بخود قومی حکومت میں شامل ہو جائیں گے۔
مغربی کنارے میں سیاسی گرفتاریوں کے بارے میں اسلامی جہاد کے رہ نما کا کہنا تھا کہ یہ گرفتاریاں اسرائیلی شہ پر کی جا رہی ہیں۔ ان میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔انہوں نے سیاسی گرفتاریوں کو قومی مفاہمت کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

