فلسطین کے سیاسی مبصرین اور رائے عامہ معلوم کرنے والے اداروں کی جانب سے گذشتہ برس کےآخر میں اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ایک کامیاب ڈیل کو اسلامی تحریک مزاحمت "حماسٓ” کےلیے نہایت مفید قرار دیا ہے۔
حال ہی میں رام اللہ میں "فلسطین پولیٹیکل اینڈ کریسچین ریسرچ سینٹر” کے زیراہتمام کیے گئے ایک عوامی سروے میں عوام کی بھاری اکثریت نے حماس کی حمایت کی۔ عوامی حمایت میں اضافے کی بنیادی وجہ گذشتہ برس اسرائیل کے ساتھ اسیران کے تبادلے کی کامیاب ڈیلنگ اور دشمن کے ایک فوجی کے بدلے میں اپنے ایک ہزار پچاس اسیران کی رہائی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق تین چوتھائی فلسطینیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کی ڈیلنگ میں حماس فائدے میں رہی جبکہ اسرائیل کو حماس کی سخت شرائط تسلیم کی ہیں۔ جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام میں حماس کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔37 فی صد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ڈیلنگ نے عوام کے حماس پر اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
شماریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اسیران کے حوالے سے حماس کی ڈیلنگ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ حماس نہ صرف مشکل فیصلے قبول کیے بلکہ اسرائیل کو مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کیا ہے۔ حماس نے اسرائیل کے ساتھ "کامیاب اننگ” کھیلتے ہوئے ایسے اسیران کو بھی رہائی دلوائی ہے جنہیں اسرائیلی عدالتوں کی جانب سے کئی بار عمرقید کی سزائیں ہو چکی تھیں۔ حماس کی یہی کارروائی عوامی مقبولیت میں اضافے کا موجب بنی ہے۔
سروے رپورٹ میں فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت اور مغربی کنارے میں فتح کی حکومت کی کرپشن کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کے ساٹھ فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ فتح کی سلام فیاض کی حکومت میں کرپشن 70 فی صد ہے جبکہ غزہ کی پٹی میں اسماعیل ھنیہ کی نگرانی میں قائم حکومت میں کرپشن 60 فیصد ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور حماس کے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کے درمیان ان کی عوامی مقبولیت کا تقابلی جائزہ بھی لیا ہے۔ رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں اسماعیل ھنیہ فلسطینیوں کے مقبول ترین لیڈر ہیں جبکہ صدرمحمود عباس کی عوامیت مقبولیت کا گراف زیرو ہو چکا ہے۔
رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ حماس کی عوامی مقبولیت میں اسی تسلسل کے ساتھ اضافہ برقرار رہا تو آئندہ پارلیمانی انتخابات میں جماعت کو گذشتہ انتخابات کی نسبت بھاری کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور اس کے مقابلے میں فتح بدترین شکست سے دوچار ہو گی۔

