فلسطین میں اسلامی و مسیحی مقدسات کے تحفظ کے لیے سرگرم کمیٹی نے بیت المقدس کو یہودی دارالخلافہ بنانے کی صہیونی سازشوں کا قانونی میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسلم۔ مسیحی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسن خاطرنے مقبوضہ بیت المقدس کو یہودی قوم کا دارالحکومت قرار دلوانے کی صہیونی کوششوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل القدس کے بارے میں تاریخی حقائق کو مسخ کر کے پیش کر رہا ہے۔ بیت المقدس تاریخی، مذہبی، سیاسی،جغرافیائی، آبادیاتی اور ثقافتی ہر اعتبار سے مسلمانوں کا متحدہ دارالحکومت ہے جس پر یہودیوں کا کوئی حق نہیں ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران ڈاکٹر خاطر نے کہا کہ اسرائیل نے القدس کے بارے میں تمام عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کو بھی دیوار پر دے مارا ہے۔ اسرائیل یہ بات بھول جائے کہ وہ القدس کو طاقت کے ذریعے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے گا۔ القدس عالم اسلام اور فلسطین کا اٹوٹ انگ ہے جسے کسی صورت میں ہم سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس پر مسلسل دست درازی سے خطے میں امن کی مساعی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی ادارے امن مساعی کو تباہ کرنے کی ذمہ داری اسرائیل پرعائد کریں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ "کنیسٹ” میں آج اتوار کے روز ایک بل پیش کیا جا رہا ہے جس میں بیت المقدس کو یہودی قوم کا درالحکومت قرار دینے کی سفارش کی جائے گی۔ صہیونی پارلیمنٹ آج سے اس متنازعہ مسودہ قانون پر بحث کا آغاز کرے گی۔

