اقوام متحدہ کی سماجی اقتصادی کونسل کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور بحالی کے لیے کام کرنے والی تنظیم "حق العودہ”[حق واپسی] کو سفارتی سند دینے پر فلسطین بھرمیں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فلسطینی رہ نمائوں نےاس فیصلے کے رد عمل میں کہا ہے کہ "حق واپسی” کو اقوام متحدہ کی طرف سے سند سفارت دینا صہیونی ریاست اور یہودی لابی کی بدترین شکست ہے۔
فلسطینیوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف تنظیم” میلوں کی مسکراہٹ” کے چیئرمین عصام یوسف کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سماجی واقتصادی کونسل کی طرف سے "حق واپسی” کو مشارتی رکن کا درجہ دینا فلسطینیوں کی تاریخی فتح اور صہیونی ریاست کی ذلیت آمیز شکست ہے۔
لندن میں ایک بیان میں عصام یوسف نے کہاکہ اسرائیل نے "حق واپسی” کی رکنیت روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر وہ کونسل کے ممبران کو اپنے حق میں موڑنے میں ناکام رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی اقتصادی کونسل کے 54 ممبر ممالک نے "حق واپسی” پر بھرپوراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے سند سفارت دی ہے اور صہیونی ریاست کی جانب سے اس کے خلاف دی گئی درخواست کو مسترد کرکےقابض حکومت کو شکست سے دوچار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حق واپسی ایک آزاد اور خود مختار تنظیم ہے جو کسی سیاسی جماعت کےزیراثر نہیں۔ اس کا مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنا ہے اور ان کی وطن واپسی کے آئینی حق کےحصول کے لیے جدو جہد کرنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
