مقبوضہ مغربی کنارے میں فتح کی حکومت کے غیرآئینی سربراہ سلام فیاض کے سترہ اپریل کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھوسے ملاقات کے اعلان پرفلسطینی عوام نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔
فلسطین کی سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں اورصہیونی جیلوں میں اسیران کا کہنا ہے کہ سلام فیاض "یوم اسیران” کوصہیونی وزیراعظم سے ملاقات کر کے قیدیوں کے حقوق کی سودے بازی کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ سترہ اپریل کو فلسطین بھرمیں "یوم اسیران” منایا جا رہا ہے۔ جس میں ملک بھرکی تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیمیں اور انسانی حقوق کی انجمنیں حصہ لیں گی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین نیٹ ورک برائے اطلاعات و صحافت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "چاہیے تو یہ تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اور ریاست کے تمام ادارے یوم اسیران کے موقع پرفلسطینیوں کو صہیونی جیلوں سے رہائی دلوانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھاتے لیکن ہمیں یہ سن کرنہایت دکھ اور افسوس ہوا کہ سلام فیاض اسی دن دشمن صہیونی وزیراعظم سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں جس روز فلسطینی یوم اسیران منا رہے ہیں”۔ بیان میں استفسار کیا گیا ہے کہ سلام فیاض بتائیں کہ آخرانہیں یوم اسیران ہی کے موقع پرصہیونی ہم منصب سے ملاقات کی ضرورت کیوں کرپیش ائی۔
خیال رہے کہ سلام فیاض نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ سترہ اپریل کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں وہ صدر محمود عباس کا ایک اہم پیغام اسرائیلی صدر تک پہنچائیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

