مقبوضہ فلسطین میں سنہ 1976ء میں فلسطینیوں کی املاک پر حملوں اور الجلیل شہر میں فلسطینیوں کے قتل عام کےخلاف فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
یہ مظاہرے اس دن کی یاد میں منائے جاتے ہیں جس میں انتہا پسند یہودیوں اور اسرائیلی فوج نے مقبوضہ فلسطینی کے شہر الجلیل اور صحرائے نقب میں کم سے کم چھ فلسطینیوں کو شہید کر کے ان کی املاک قبضے میں لے لی گئی تھیں۔ فلسطینی تیس مارچ سنہ 1976ء کے اس دن کو”یوم الارض” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یوم الارض کے حوالے سے جلسے جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کل ہفتے کو مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء میں اسرائیلی قبضے میں چلے جانے والے علاقے یافا میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی مظالم کی یاد میں ریلی نکالی۔ احتجاجی مظاہرے کا اہتمام سپریم عرب فالو اپ کمیٹی اور یافا کی دیگر مختلف تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا۔
یافا میں ہفتے کے روز مزکری جلوس العجمی کالونی سے نکلا، جس کے بعد اس میں مزید جلوس بھی شامل ہوتے گئے۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ کتبوں پر اسرائیلی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بھی درج تھے، مظاہرین نے فلسطینیوں کی املاک پر قبضے کے بعد انہیں متعصب یہودیوں کو فروخت کرنے کے ظالمانہ صہیونی روش کےخلاف بھی نعرے بازی کی۔
العجمی کالونی میں جمع ہزاروں افراد نے صہیونی حکومت کےخلاف تقاریر کیں۔ اس موقع پر مقررین نے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی حکومت کے مظالم کی جانب مبذول کرائی اور مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مظلوم فلسطینیوں کی املاک انہیں واپس دلوانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ مظاہرے میں طلباء انسانی حقوق کے مندوبین اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

