اسرائیل کی جیلوں میں مظالم کا شکار فلسطینی اسیران نے صہیونی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی تمام جیلوں میں زیرحراست فلسطینیوں نےاپنے جائز حقوق اور مطالبات کے حق میں”تحریک انقلاب اسیران کے نام سے بغاوت کی تحریک شروع کر دی ہے۔ اس تحریک کے دوران جیلوں میں سول نافرمانی، عام بھوک ہڑتالیں کرنے اور اپنے جائز، منصفانہ اور مروجہ حقوق کے لیے دیگر تمام قانونی اور آئینی راستے استعمال کیے جائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق اسیران نے "تحریک بغاوت اسیران” نے تمام جیلوں میں زیرحراست ہرقسم کے سزا یافتہ اسیران اورہر سیاسی جماعت کے اسیر کو شامل کیا جائے گا۔ اسیران کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے اسیران کو قید تنہائی میں ڈالنے اور بے گناہ شہریوں کو طویل مدت کے لیے حراست میں رکھنے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔
اسیران کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف قیدیوں کے اس اقدام کی ہر سطح پر حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں اپنے حقوق کے لیے فلسطینی اپنی جائز اور قانونی جدوجہد کریں گے۔
فلسطینی اسیران کی جانب سے خفیہ ذریعے سے میڈیا تک پہچنے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل نے گذشتہ چھ سال سے غزہ کی پٹی کے اسیران کے ساتھ ان کے اہل خانہ کے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ اس کےعلاوہ اسیران کو بغیر کسی وجہ کے آئے روز قید تنہائی میں ڈال دیا جاتا ہے اور روزمرہ کی بنیاد پر بے گناہ اسیران کے ساتھ معاندانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے جس کے خلاف وہ اب میدان عمل میں اتر رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

