فلسطین کی منظم مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ایک مرکزی رہ نما نے کہا ہے قومی حکومت عارضی ہو گی، اس میں قومی پالیسی کے بڑے فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔
نیزقومی عبوری حکومت کی تشکیل میں تاخیر کا حماس کے سیاسی شعبےکے سربراہ خالد مشعل اور صدر محمود عباس کے درمیان اتفاق رائے سے کیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت رشق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قومی حکومت کے بارے میں فتح اور حماس کے درمیان اختلافات کی خبریں محض میڈیا پروپیگنڈہ ہیں جن کا نہ کوئی جواز ہے اورنہ ہی اس طرح کی افواہیں قوم کی خدمت ہیں۔
عزت رشق کا کہنا تھا کہ قومی حکومت کی تشکیل کی تاخیر کے بارے میں حماس اور فتح کی قیادت کا ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ قومی حکومت کی تشکیل میں تاخیر اختلافات کا نتیجہ نہیں بلکہ خالد مشعل اور صدر محمود عباس کی مشترکہ تجویز کے تحتاسے موخر کیا گیا ہے۔
حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ فلسطینی قومی حکومت اعلان قاہرہ اور اعلان دوحہ میں طے کردہ شیڈول کے مطابق ہی ہو گا۔ قومی حکومت عارضی ہو گی جس میں بڑے اور قومی پالیسی سے متعلق اقدامات اور فیصلے نہیں کیے جا سکیں گے بلکہ اس قومی حکومت کے صرف تین اہداف ہوںگے۔ اول یہ کہ وہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں پر توجہ دے گی۔ دوم غزہکی پٹی کی تعمیر کرائے گی اور سوم یہ کے فلسطین میں سایسی جماعتوں کے درمیان پائی جانے والی بے اتفاقی کو دور کرنے کے اقدامات کرے گی۔
عزت رشق نے میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات کی بھی سختی سے تردید کہ حماس نے قومی حکومت میں اہم وزارتیں مانگیں ہیں جس کے باعث دونوں جماعتوں میں اتفاق رائے نہ ہونے سے قومی حکومت کی تشکیل موخر کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ قومی حکومت کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہو گی۔ اس میں شریک تمام جماعتوں کو برابری کی بنیاد پر وزارتیں دی جائیں گی۔ قومی حکومت کی تشکیل میں کسی فریق کی فتح اور شکست نہیں ہو گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

